بنگلورو،8؍اکتوبر(ایس او نیوز) شہر کے بسویشورا سرکل سے ہبال فلائی اوور تک چھ لائن اسٹیل برڈج کی تعمیر پر روک لگانے سے ریاستی ہائی کورٹ نے انکار کردیا۔ لی مریڈین ، مہکری سرکل سے گزر کر ہبال تک پہنچنے والے اس 18 سو کروڑ روپیوں کے پل کی تعمیر کے سلسلے میں ریاستی حکومت کی طرف سے کئے گئے فیصلے کا چیلنج کرتے ہوئے نما بنگلور فاؤنڈیشن نے مفاد عامہ عرضی ریاستی ہائی کورٹ میں دائر کی جس کی سماعت چیف جسٹس ایس کے مکھرجی اور جسٹس آر بی بودی ہال نے کیا۔ ججوں نے فریقوں کے تمام دلائل سنے ، حکومت اور بی ڈی اے نے بھی عدالت میں اپنا اپنا موقف پیش کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ تمام فریقوں کو عدالت نے نوٹس جاری کرتے ہوئے اس عرضی پر اپنے اعتراضات دائر کرنے کی ہدایت جاری کی۔عرضی گذار کے وکیل نے عدالت سے گذارش کی کہ اس منصوبے پر عبوری روک لگائی جائے ۔تاہم ججوں نے اس گذارش کو مسترد کردیا اور کہاکہ آئین کی دفعہ 243ZE کے تحت اس پراجکٹ پر اسٹے کا مطالبہ کرنا غیر قانونی ہے۔ ججوں نے تبصرہ کیا کہ عوام کی سہولت کیلئے حکومت کی طرف سے جب اتنا بڑا پراجکٹ تیار کیاجارہاہے تو عدالت غیر ضروری طور پر اپنے کسی حکم سے اس پراجکٹ کو روکنا پسند نہیں کرے گی، بلکہ اس طرح کے بڑے پراجکٹوں سے عوام کو جو سہولت ہوگی اس کا خیر مقدم کیاجانا چاہئے۔تاہم اس ضمن میں اگر کچھ شکوک وشبہات ہیں تو اس کا ازالہ کرنے کے بعد عدالت اس مفاد عامہ کی عرضی پر اپنا حکم سنائے گی۔ عرضی گذارکے وکیلوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے اس پراجکٹ پر آنے والے خرچ ، اس پراجکٹ کے استعمال اور عوام کو اس سے ہونے والی سہولت کے ساتھ اس سے لاحق خطرات کے متعلق ماہرین کی رپورٹ منظر عام پر نہیں لائی ہیں، اس پراجکٹ کیلئے بنگلور میٹرو پولیٹن پلاننگ کمیٹی کی منظوری نہیں لی ہے۔ تاہم ججوں نے عرضی گذار کے وکیلوں کی کچھ سنے بغیر اس پراجکٹ پر عبوری روک لگانے سے صاف انکار کردیا۔